Thursday, 4 August 2011

قلم اٹھاتے ہیں، اٹھا کے رکھ دیتے ہیں اکثر

غم دل کو کھول دیتے ہیں اکثر،
جام اٹھاتے ہیں، اٹھا کے توڑ دیتے ہیں اکثر۔

غم کے میلے، ستانے آ جاتے ہیں،
آنکھوں کو بند کر کے، آنسؤں کو روک لیتے ہیں اکثر۔

تنہائی میں بیٹھے بیٹھائے کبھی کبھی،
یادوں کی زنبیل کھول لیتے ہیں اکثر۔

کبھی ہنستے ہیں، کبھی روتے ہیں،
خود کو پاگل بنا لیتے ہیں اکثر۔

لوگ ملتے ہیں، مل کر بچھڑ جاتے ہیں،
دلوں پے وار کر کے، گھاؤ چھوڑ جاتے ہیں اکثر۔

سپنوں کی دیواریں بنا کر ہم،
خود ہی ان کو گرا دیتے ہیں اکثر۔

جلاتے ہیں خود کو تنہائی میں بھی،
بھیڑ میں بھی رو دیتے ہیں اکثر۔

اٹھاتے ہیں خود کو آسمانوں کی بلندیوں پر،
زیر زمین خود کو دبا دیتے ہیں اکثر۔

لکھتے ہیں حال دل کبھی کبھی باسط،
قلم اٹھاتے ہیں، اٹھا کے رکھ دیتے ہیں اکثر۔

Tuesday, 19 July 2011